مردم شُماری ہماری ریڈ لائن ہے، ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے،ہمیں درست شمار نہیں کیا گیا تو ہم سے کوئی امید نا رکھی جائے،سید مصطفی کمال

پیپلز پارٹی کے چیئر مین آصف زرداری آج بھی کراچی کی آبادی 3 کروڑ پر قائم ہیں جبکہ انکا وزیر اعلیٰ کراچی سے تعصب برت رہا ہے،سید مصطفی کمال



بعد از مردم شماری آڈٹ صوبائی حکومت کے بجائے تھرڈ پارٹی سے کروایا جائے،سید مصطفی کمال


وزیر اعظم بننے کے خواہشمند بلاول بھٹو زرداری اگر ہمیں درست شمار نہیں کریں گے تو پھر وزیر اعظم بھی نہیں بن سکتے،ڈاکٹر فاروق ستار



کراچی کی آبادی سندھ کی کل آبادی کا 50 فیصد سے زائد ہے جسے ایک سازش کے تحت 33 فیصد سے بڑھنے نہیں دیا جا رہا،ڈاکٹر فاروق ستار


*ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد سے متصل پارک میں سینئر ڈپٹی کنوینرز سید مصطفی کمال،ڈاکٹر فاروق ستار کی دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب*


کراچی۔۔۔04جون2023ء



*وائس آف کراچی نیوز VOK*


متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد سے متصل پارک میں سینئر ڈپٹی کنوینرز سید مصطفی کمال،ڈاکٹر فاروق ستار کا حالیہ مردم شُماری میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر پریس کانفرنس سے خطاب۔ سید مصطفی کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی بہت اہم شہر ہے اس سے پاکستان چل رہا ہے مردم شماری ہماری ریڈ لائن ہے، ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے،ہمیں درست شمار نہیں کیا گیا تو ہم سے کوئی امید نا رکھی جائے جیکب آباد 49 فیصد، کشمور38فیصد، شکار پور 34فیصد، لاڑکانہ میں 28فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ کراچی جہاں پاکستان بھر سے لوگ آرہے ہیں وہ 20 فیصد کا ہندسہ کراس نہیں کر پارہا یہ ماننے والی بات نہیں پیپلز پارٹی کے چیئر مین آصف زرداری آج بھی کراچی کی آبادی 3 کروڑ پر قائم ہیں جبکہ انکا وزیر اعلیٰ کراچی سے تعصب برت رہا ہے پوسٹ انومیریشن آڈٹ تھرڈ پارٹی سے کروایا جائے کیونکہ اگر خرابی پیدا کرنے والے لوگ ہی یہ آڈٹ کریں گے تو پھر کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔ 



انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی افرا تفری میں پوسٹ انومیریشن کی تاریخ گزرچکی ہے اورعوام نے ڈیجیٹل مردم شماری کے بعد کاغذ پر کوائف دینے سے منع کر دیاہے یہاں ایک طبقہ حکومت گرانے تو دوسرا بچانے میں لگا ہوا ہے کسی کو کوئی فکر نہیں کہ عوام کے ساتھ ہو کیا رہا ہے ادارہ شماریات کے جاری کردہ نمبرز کو ایم کیو ایم تسلیم نہیں کرتی اس سلسلے میں کنوینر ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال سے رابطہ کرکے مردم شماری کے بعد ہونے والے سروے کی تاریخ میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ 



انکا کہنا تھا کہ سندھ کے دیگر اضلاع میں ناقابل فہم اضافہ ہو رہا جبکہ کراچی و حیدر آباد میں 20فیصد کا فیگر کراس نہیں ہو رہا، انہوں نے مزید کہا کہ 07 اپریل کو 98 فیصد سندھ کی آبادی کو گنے جانے کی خبریں اخبارات میں لگیں جس میں کراچی کی آبادی 1 کروڑ 33 لاکھ دکھائی گئی تھی اس دن کے بعد سے آج تک ہماری حکام بالا سے 55 سے زائد میٹنگز ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں تمام شواہد کے بعد56 لاکھ کی آبادی کا اضافہ ایم کیو ایم کی جدوجہد کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والوں کی اولادیں آج اپنی گنتی پوری نہیں کروا پارہے ہماری صوبائی حکومت اتنی متعصب ہے جو ہمیں صحیح گنے جانے کو تیار نہیں یہاں سندھ کا وزیر اعلی کراچی کو پانی دینے کے لئے وزیراعظم سے اضافی پانی کی مانگ کر رہا ہے جبکہ سندھ کی آبادی کا 50 فیصد یہاں موجود ہے، 90 فیصد ریونیو یہ شہر دیتا ہے اور اس مردم شماری میں شمار کنندگان نے لوگوں کو گنا نہیں ہے ان ساری خرابیوں کو اگر ختم نا کیا گیا تو ایم کیو ایم اس مردم شماری کو نہیں مانے گی اگر ریاست اور اسکے اداروں کو شہری سندھ کو صحیح گنے جانے کی توفیق نہیں تو ہم سے اچھی توقعات نا رکھیں یہ لوگ ہیں، بھیڑ بکریاں یا جانور نہیں، انہیں حقوق نا ملے تو یہ اپنے عمل میں آزاد ہوں گے ہمیں سندھ حکومت کے رحم و کرم پر نا چھوڑا جائے۔صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں  مصطفی کمال نے کہا کہ وزیر اعلی نے جیکب آباد، کشمور اور اندرون سندھ لوگوں کا اضافہ کروایا ہے جبکہ ہماری جانب سے منعقدہ متعلقین کی کانفرنس میں پلڈاٹ سمیت دیگر اہم اداروں کے افراد نے ہمارے موقف کو درست تسلیم کیا انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعلی کی نیت ٹھیک ہو لیکن نیچے اے سی ڈی سی کے کام ٹھیک نہیں ہیں زرداری صاحب کراچی کی ل3 کروڑ کی آبادی کو آج بھی اون کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈرٹی ہیری، جانور اور دیگر برے القابات سیاستدان کہتے رہے ہیں یا دیگر لوگ؟15 سالوں تک شہریوں کو پانی سے محروم رکھنا، کیا اسٹیبلشمنٹ ایسا کر رہی ہے؟06 فیصد ووٹ لینے والی پیپلز پارٹی کے پاس شہر کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم بننے کے خواہشمند بلاول بھٹو زرداری اگر ہمیں درست شمار نہیں کریں گے تو پھر وزیر اعظم بھی نہیں بن سکتے ہم نے کب ایسا مطالبہ کردیا کہ شہری سندھ میں بسنے والے صرف مہاجروں کو گنا جائے ہم تو کہتے ہیں کہ کراچی میں رہنے والے مہاجروں کے ساتھ ساتھ تمام لسانی اکائیوں کے لوگوں کو ٹھیک گنا جائے مصطفی کمال نے شہری سندھ اور دیگر اضلاع کی آبادی میں اضافے کا تقابلی جائزہ پیش کردیا ان حالات کے ذمہ دار صوبائی حکومت اور سندھ پر قابض وڈیرے ہیں یہ سندھ کو اپنی کالونی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں کراچی کی آبادی سندھ کی کل آبادی کا 50 فیصد سے زائد ہے اسے ایک سازش کے تحت 33 فیصد سے بڑھنے نہیں دیا جا رہا انہیں ڈر اس بات کا ہے کہ کہیں اگلا وزیر اعلی کراچی سے نا آجائے وزیر منصوبہ بندی اور ادارہ شماریات کے اعلی حکام ہمارے خدشات کو درست مان چکے بلاول بھٹو زرداری اگر وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں تو پہلے شہری سندھ کو اسکے حقوق دیں۔اس موقع پر ڈپٹی کنوینرز انیس احمد قائم خانی،عبدالوسیم،وفاقی وزیر و رکن رابطہ کمیٹی سید امین الحق و دیگر اراکینِ رابطہ کمیٹی اور حق پرست اراکینِ صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔